10 مئی 2011 - 19:30

کراچی میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے سعودی عرب کے قونصل خانے پر دو دستی بم پھینکے ہیں لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ابنا: شہر کے جنوبی علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں یہ حملہ بدھ کے سہ پہر کیا گیا۔ اس کی تصدیق کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ساؤتھ اقبال محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی۔ڈی آئی جی اقبال محمود نے بتایا کہ ہیلمٹ پہنے ہوئے دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے خیابانِ حافظ پر واقع سعودی قونصل خانے پر دو دستی بم پھینکے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملہ آور فوراً فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ذرائع کے مطابق سعودی قونصل خانے کی اس عمارت میں قونصل کے سفارتی امور نمٹائے جاتے ہیں اور قونصل جنرل سمیت سفارتکاروں کی رہائشگاہ بھی اسی عمارت میں بتائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق دو میں سے ایک دستی بم عمارت کی بیرونی کیاری میں گرا جبکہ دوسرا بیرونی دیوار پار کر کے اندر کی طرف جا گرا۔ لیکن عملے کے تمام ارکان اور حفاظت پر مامور تمام اہلکار محفوظ رہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ ............/110

اپڈیٹ از نوائے وقت:

کراچی ....سعودی قونصل خانے پر دستی بموں سے حملہ جانی نقصان نہیں ہوا‘ سیکورٹی اہلکاروں نے حملہ آور پکڑنے کی کوشش بھی نہیں کیکراچی (کرائم رپورٹر) کراچی میں سعودی عرب کے قونصل خانے پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا، دو میں سے ایک بم پھٹ نہیں سکا زور دار دھماکے سے قونصل خانے کے عملے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کردی‘ ڈیفنس میں خیابان حافظ پر واقع سعودی قونصل خانے پر دستی بموں سے حملہ بدھ کی دوپہر کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد جو پینٹ شرٹ میں ملبوس تھے اور ہیلمٹ پہنے ہوئے تھے دو دستی بم پھینک کر فرار ہوئے جن میں سے ایک بم زوردار دھماکے سے پھٹا اور اس سے قونصل خانے کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دوسرا بم دیوار کے قریب کیاری میں گرا اور پھٹ نہیں سکا جس وقت دستی بم پھینکے گئے معمول کے مطابق پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے جوان قونصل خانے پر تعینات تھے تاہم ان کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور دونوں موٹر سائیکل سوار کسی بھی مزاحمت کے بغیر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے بعد ازاں ایس پی کلفٹن طارق دھاریجو سمیت پولیس کے سینئر افسران اور رینجرز حکام موقع پر پہنچے اور جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے عملے نے موقع پر پہنچ کر اس دستی بم کو جو پھٹ نہیں سکا تھا اپنی تحویل میں لے لیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دستی بم دیسی ساختہ اور پچاس گرام وزنی تھے۔ ایف پی کے مطابق سعودی قونصلیٹ پر حملہ اسامہ کی موت کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110